214

فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسو سی ایشن پاکستان نے وفاقی حکومت سے آم کے ایکسپورٹرز کو فریٹ سبسڈی فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا

فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسو سی ایشن پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کرونا کی عالمی وباءاور موسمیاتی تبدیلی سے  آم کی ایکسپورٹ کو تاریخ کے سخت ترین چیلنج کا سامناہے، کساد بازاری، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے طلب میں کمی اور فضائی آپریشن محدود ہونے سے فریٹ میں غیرمعمولی اضافہ نے مشکلات کھڑی کردیں،رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا ہدف 80ہزار ٹن تک محدود کردیا،گزشتہ سال کی ایک لاکھ 30ہزار ٹن کی ایکسپورٹ کے مقابلے میں رواں سیزن  50ہزار ٹن کم ہوگی ،ایکسپورٹ کے ہدف میں کمی کے ساتھ ہی آم کی ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو میں بھی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا،گزشتہ سیزن ایک لاکھ تیس ہزار ٹن آم کی ایکسپورٹ سے 9کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا،رواں سیزن ایکسپورٹ 5کروڑ ڈالر تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔ سرپرست اعلی فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسو سی ایشن پاکستان وحید احمد نے کہا ہے کہ کرونا کی عالمی وباءکی وجہ سے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کا سیزن بے یقینی کا شکار ہے، آم کی ایکسپورٹ 40فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے، کرونا کی عالمی وباءکی وجہ سے یورپ امریکا سمیت پاکستانی آم کی خریدار منڈیاں بند پڑی ہیں، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ایئرلائنز، سیاحت، ہوٹلنگ اور شاپنگ سینٹرز بند ہونے سے دیگر اشیاءکی طرح آم کی کھپت بھی متاثر ہوگی۔ فضائی کمپنیوں نے فضائی کرایوں میں تین گنا اضافہ کردیا ہے ،گزشتہ سیزن 175 روپے فی کلو کرایہ وصول کرنے والی ایئرلائنز رواں سیزن یورپ کے لیے 550 روپے فی کلو کرایہ طلب کررہی ہیں،خلیجی ریاستوں کے لیے 80روپے فی کلو کا کرایہ اب بڑھا کر 240روپے فی کلو کردیا گیا ہے،ملک سے 55فیصد آم سمندر کے راستے، 20  فیصد فضائی راستے اور 25 فیصد زمینی راستے سے ایکسپورٹ کیا جاتا ہے،فضائی کمپنیوں کی جانب سے فریٹ میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے فضائی راستے سے آم کی ایکسپورٹ میں 70فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ ایران اور افغانستان کو زمینی راستے سے آم کی ایکسپورٹ بھی لاک ڈاﺅن یا کرونا کی وباءکی روک تھام کے پیش نظر سرحدوں کی بندش سے مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔وفاقی حکومت آم کے ایکسپورٹرز کو فریٹ سبسڈی فراہم کرے،گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ایندھن کی قیمتوں کے لحاظ سے کمی لائی جائے،آم کے باغات فیکٹریوں، دفاتر اور پیک ئوسز میں کرونا کے حفاظتی اقدامات کے لیے معاونت فراہم کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں